ایلان مسک دنیا کا امیر ترین آدمی ہے.کبھی یہ پہلے نمبر پر اور کبھی دوسرے نمبر پر ہوتے ہی
امیر ترین ہی نہیں بلکہ سب سے زیادہ انفلوئنشل لوگوں میں سے ہی زیپ ٹو اور پے پال بھی وہ کمپنیز ہیں جو یا تو ایلان مسک نے کھڑی کی ہیں
.کیونکہ ایکس ڈاٹ کام جو پہلے ٹویٹر تھا
اس پر ان کے فالوورز 160 ملین سے زیادہ ہیں۔
ٹوئٹر پر سب سے زیادہ انٹریکشن بھی انھی کے اکاؤنٹ سے جنریٹ ہوتی ہے۔
پھر یہ چھ سے زیادہ ملٹی بلین ڈالر کمپنیز کا مالک یا فوؤنڈر ہے۔
جیسے کہ سپیس ایکس میں یہ چیف اینجینئر اور سی ای او پلس فاؤنڈر ہیں۔
ٹیسلا کا فاؤنڈر اور سی ای اوی بھی یہی ہے۔
اسی طرح ٹویٹر ایکس ڈاٹ کام، مسک فاؤنڈیشن، دی بورنگ کمپنی
ایکس کور، ایکس اے آئی
نیورولنک، اوپن اے آئی جس کی پراڈکٹ چیٹ جی پی ٹی مشہور زمانہ ہے
یا پھر اس نے خرید کر پرائیوٹ اونرشپ میں لے لی ہیں۔
آپ سوچئیے کہ ایک انسان اتنا سب کچھ کیسے کر سکتا ہے جب کہ اس نے گیارہ بچے بھی پیدا کیے ہوں
اور دن کے ہر گھنٹے میں کم از کم ایک ٹویٹ اور کئی ریپلائز بھی کرتا ہو۔
کبھی کبھی تو سوشل میڈیا شئیرنگ سیکنڑوں تک پہنچتی ہے
اور پھر اس دروان اسے اپنی کئی ملٹی بلین ڈالر کمپنیز
اور شئیرز کے بارے میں مشکل فیصلے بھی ساتھ ساتھ لینا ہوتے ہیں۔
آخر ایلون مسک یہ سب کیسے کرتے ہیں
اور ان کی سائیکالوجی کیا ہے؟
نامور بائیوگرافر والٹر ائیزکسن نے ابھی ایک کتاب ایلان مسک لکھی ہے۔
اس کتاب میں وہ ایلون کے بچپن کے کچھ ایسے واقعات بھی لکھتے ہیں
جن کے نفسیاتی زخم آج بھی ایلون کی پرسنلٹی پر گہرے موجود ہیں۔
آپ دو واقعات سے ہی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں
کہ ایلون مسک لوگوں کو اچانک فائر کیوں کر دیتے ہیں
اور اچانک نہایت فضول قسم کے فیصلے سوشل میڈیا پر کیوں اناؤنس کر دیتے ہیں؟
جیسا کہ فیس بک میٹا کے بانی مارک زکربرگ کو کیجڈ فائٹ کا چیلنج دے ڈالنا۔
ان کی نفسیات پر وہ کون سے واقعات ہیں، وہ آپ کو بتاتے ہیں پہلا واقعہ سنیں ذرا۔
ایلان مسک کی فیملی جب ساؤتھ افریقہ میں رہتی تھی،
جو کہ ان کا پیدائشی ملک تھا، تو بارہ سال کی عمر میں انھیں ایک ایسے کیمپ میں بھیج دیا گیا
جہاں سروائیول تکنیکس سکھائی جاتی تھیں۔
یہاں بہت سخت اور ظالمانہ قسم کی تربیت دی جاتی تھی
جس میں بچوں کو تھوڑی سی خوراک اور پانی دے کر آپس میں لڑنے کی کھلی آزادی تھی،
بلکہ ترغیب دی جاتی تھی۔
ان کی حوصلہ افضائی کی جاتی تھی کہ وہ آپس میں لڑیں وسائل کے لیے
حالات ایسے بنائے جاتے تھے کہ بچوں کو آپس میں مقابلہ کر کے رہنا پڑتا تھا۔
لڑائی، سرپھٹول اور ایک دوسرے کے منہ پر گھونسہ مار کر ناک توڑ دینا وغیرہ عام بات تھی۔
انسٹرکٹرز اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے تھے کہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے
جو بھی سخت سے سخت سٹیپ لے سکتے ہو لے لو،
اور اپنے مقابل سے پہلے لے لو۔
مطلب بُولنگ کو ایک اچھی بات سمجھا جاتا تھا۔
تو بارہ سال کے ایلان مسک نے، جب وہ پہلی بار یہاں گیا تو اس نے خوب مار کھائی۔
اکثر منہ سجائے اسے رات گزارنا پڑتی تھی۔
لیکن اگلی بار جب وہ اسی کیمپ میں دوبارہ آیا تو وہ سولہ سال کا بڑا لڑکا تھا۔
اس کا قد بھی چھ فٹ سے نکل چکا تھا۔
اس نے جوڈو کراٹے کے کچھ داؤ بھی سیکھ لیے تھے۔
سو اس بار اس نے صرف مار نہیں کھائی بلکہ بہت سوں کو پیٹا بھی۔
بیچ کے چار برس میں وہ سیکھ چکا تھا کہ اگر کوئی تمہاری طرف لپکے
تو اس کی ناک پر اس زور سے گھونسہ مارو کہ اسے دن میں تارے نظر آ جائیں،
اس کی ناک ٹوٹ جائے۔
اس پہلے مکے کے بعد چاہے وہ تم کو دوستو کے ساتھ مل کر کتنا بھی پیٹ ڈالے،
لیکن وہ دوبارہ تماری طرف آتے ہوئے سو بار سوچے گا۔
سولہ سالہ ایلون مسک نے اس بار یہ ساری آئیڈیالوجی اور داؤ پیچ کئی دشمن کولیگز پر آزمائے۔
مطلب جو کیمپ کا مقصد تھا کہ بچوں کو ظالم معاشرے میں لڑنا اور جینا سکھایا جائے وہ اسے سیکھ رہا تھا۔
آپ کو یہ بات شاید عجیب لگے لیکن ساؤتھ افریقہ میں
ایسے کیمپس ستر اور اسی کی دہائی میں ہوا کرتے تھے۔
کیونکہ وہاں سروائیول ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔
زندہ رہنا ہی ایک کام تھا۔
اس عہد ستم گر میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے
کچھ ایسا حساب تھا۔
ملک میں افریقی اور غیر افریقی، کالے اور سفید کی بنیاد پر قتل و غارت،
دنگا فساد اور رہزنی عام بات تھی۔
اس لیے بچوں کو ٹف نٹ بنانے کے لیے خاص کیمپس موجود تھے،
جن میں سابق فوجی یا فائٹرز ٹریننگ دیتے تھے۔
ایلون مسک کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ساؤتھ افریقہ میں اتنے برے حالات تھے
کہ ہم سکول جاتے ہوئے بعض اوقات راستے میں ایسی لاشیں دیکھتے تھے
جن کے سر میں چاقو گھونپے گئے ہوتے تھے،
یہ لاشیں کئی کئی دن سڑک پر پڑی رہتیں تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات ان کا خون ہمارے جوتوں کے تلووں سے چپک جاتا
اور کئی دن تک گھر میں چلتے ہوئے چپچپاہٹ کا احساس ہوتا رہتا۔
اس سے خوف اور بے رحمی کا ایک عجیب سا احساس دل میں گھر کر جاتا تھا۔
اس سے ایلون مسک نے بچپن کا پہلا سبق سیکھا
کہ جب مقابلہ کرو تو اس طرح کرو کہ یا تو تم رہو گے یا سامنے والا۔
جب ہٹ کرو تو اتنے زور سے کرو کہ وہ دوبارہ تم سے مقابلے کا سوچے بھی نہیں۔
یہ ایلون مسک نے بچپن میں سبق سیکھا تھا
اس کے بعد دوسرا واقعہ آتا ہے جس نے ایلون کی نفسیاتی پر زیادہ گہرا اثر ڈالا۔
ان کے بائیوگرافر کہتے ہیں کہ یہ بات انھیں ایلون نے خود بتائی
کہ ان کا باپ ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتا تھا،
وہ ایلون کے جذبات کا لحاظ بالکل بھی نہیں کرتا تھا۔
مثلاً ایک بار سکول کے ابتدائی دنوں میں جب ایلون مسک بہت چھوٹا اور کمزور تھا
اسے سکول میں کچھ بچوں مل کر خوب مارا۔
اتنا مارا کہ اس کے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ٹشوز پھٹ گئے۔
ایلون مسک کا بھائی کِیمبل بھی اس وقت پاس ہی تھا، اس کا کہنا ہے کہ
ایلون کا چہرہ اس بری طرح بگڑ گیا تھا کہ اس کی آنکھیں بھی بمشکل ہی نظر آتی تھیں۔
اسے ہسپتال لے جایا گیا،
میڈیکل ٹریٹمنٹ شروع ہوئی
اور پھر وہ کئی سال تک بلکہ دہائیوں تک ناک کی سرجری کے تکلیف دہ عمل سے گزرتا رہا۔
لیکن ابتدائی طور پر جب اسے یہ چوٹیں لگیں تو ان کی تکلیف سے کہیں زیادہ
وہ کچھ اور تھا جس نے اسے تمام عمر کے لیے گہرا نفسیاتی گھاؤ دے ڈالا۔
وہ ایسے کہ جب میڈیکل ایڈ کے بعد ننھا ایلون مسک ہسپتال سے گھر لوٹا
تو اس کے باپ ایرل مسک نے بجائے اس کی تکلیف سمجھنے اور دلاسہ دینے کے اسے نشانے پر رکھ لیا۔
اسے کہا کہ "جس بچے نے تمہیں مارا ہے اس کا باپ کچھ دن پہلے ہی خودکشی کر کے مرا تھا۔
تم نے اسے سٹوپڈ کیوں کہا؟
سب تمہاری غلطی ہے،
اس لڑکے اور اس کے دوستوں کا کوئی قصور نہیں تم ہو ہی اس قابل۔
ایلون کے باپ نے یہیں پر بس نہیں کی
بلکہ اسے سامنے کھڑا کر کے ایک گھنٹہ تک مسلسل وہ بے عزتی کی، وہ درگت بنائی،
وہ برا بھلا کہا کہ ایلون کے دل سے باپ ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔
ایلون اور اس کا بھائی کِیمبل دونوں کہتے ہیں کہ ہمارا باپ اکثر ایسا ہی کرتا تھا کہ
بغیر رکے ایک ایک دو دو گھنٹے ایلون پر چیختا چلاتا رہتا تھا۔
بلا تردد پھیپھڑے پھاڑ دینے والی آواز میں بچوں کی عزت نفس کو تار تار کر دینے والی ساری باتیں کہتا جاتا تھا
اور اس دوران ایلون کو سامنے سے ہٹ جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
اسے بس سننا ہوتا تھا کہ تم ورتھ لیس ہو، تم نکمے ہو،
تم کسی کام کے نہیں، تم تباہ ہو جاؤ گے، تم کبھی کامیابی کا کاف بھی حاصل نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ۔
جب باپ باتیں سنا سنا کر تھک جاتا
اور خود چلا جاتا تو ایلون کی جان خلاصی ہوتی۔
بقول بائیوگرافر ایلون جب اپنے باپ کے روئیے کی باتیں کرتا تھا
تو کئی کئی سیکنڈز کے لیے اسے خاموش ہونا پڑتا تھا
کیونکہ اس کی آواز بھرا جاتی تھی۔
والد کے اسی روئیے نے ایلون کی نفسیات پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
اس کہاںی میں آگے آپ کو اس کے بارے میں پتہ چلے گا
اب بائیوگرافر نے ایلون کے والد ایرول سے یہی باتیں پوچھیں
تو انھوں نے والٹر ایزکسن کو کئی تصاویر دکھائیں۔
ان پکچرز میں میں وہ تحائف تھے جو وہ اپنے بچوں یعنی ایلون، کیمبل اور بیٹی کو دیا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ دراصل آج جو ایلون مسک مشکل ترین حالات میں ترقی کرتا جا رہا ہے
یہ انھی کی سخت ٹریننگ کا نتیجہ ہے۔
ویسے ساتھیو آپ کو بتاؤں کہ آج ایلون اور ان کے بھائی اپنے باپ ایرول مسک سے نہیں ملتے۔
پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایلون مسک کی ایک بیٹی بھی اپنے باپ سے نہیں ملتی، بلکہ ملنا ہی نہیں چاہتی۔
اس کی یہ بیٹی ویون ولسن دراصل ٹرانسجینڈر گرل ہے۔
لیکن اصل میں باپ بیٹی میں دوری کی وجہ اس کا ٹرانسجینڈر ہونا نہیں ہے۔
بلکہ یہ بات ہے کہ ویون ولسن کیمونسٹ نظریات کے ساتھ کھڑی ہے۔
وہ کیپیٹلسٹ ورلڈ کے خلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ ہر امیر آدمی ایک برا آدمی ہوتا ہے۔
اور اس کا باپ تو دنیا کا ایک امیر ترین آدمی ہے۔
سو اس کے حساب سے وہ سب سے بروں میں سے ایک ہوا۔
تو یوں ساتھیو ایلون نہ تو اپنے باپ سے اچھے ٹرمز میں ہے
اور نہ ہی اس کے گیارہ بچوں میں سے ایک بیٹی اس سے اچھے تعلقات میں ہے۔
ہاں مگر اسے کنفیوز نہیں کرنا کیونکہ باقی بچوں اور بہن بھائیوں سے
اور اپنی سابقہ اور موجودہ بیومی اس کے تعلقات ویسے ہی ہیں
جیسا کہ ایک کسی بھی جینٹل مین کے ویسٹ میں ہوتے ہیں۔
تو خیر باپ کے روئیے نے ایلون مسک کے بچپن میں جو سکارز، گھاؤ چھوڑے
انھوں نے اس کی پرسنلٹی کو ایک ڈائرکشن دی۔
اس کے کئی اثرات ہیں جیسے کہ وہ موڈ سونگز کا بری طرح شکار ہے۔
کبھی بہت گہرا دوست لگے گا، کبھی لگے گا کہ وہ تو آپ کو جانتا ہی نہیں۔
اچانک بہت جینرس، محسن، دیالو ہو جائے گا،
اچانک کسی معمولی بات پر ایسے موڈ میں آ جائے گا جسے اس کے کولیگز "ڈِیمن موڈ" شیطانی رنگ کہتے ہیں،
مطلب بدمزاجی کی آخری حد پر۔
آپ نے ایلون مسک کی وہ وڈیو تو دیکھی ہو گی جس میں وہ ٹویٹر خریدنے کے بعد آفس میں آیا
تو اس نے ٹوائلٹ کی فلش سیٹ اٹھائی ہوئی تھی،
تا کہ سابقہ بورڈ ممبرز کی دل کھول کر تذلیل کر سکے۔
پھر اس نے ٹویٹر کی اسی فیصد ورک فورس کو بھی فائر کر دیا۔
یہ کوئی چھ ہزار سے زائد ایمپلائیز بنتے ہیں
اور یہ اس کے اچانک فیصلوں کی ایک مثال ہے۔
اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا کے اس امیر ترین آدمی
اور مارس پر انسانوں کو بھیجنے والے بلین ائیر کے دماغ میں بچپن کی نفسیات کتنی گہر ی ہے۔
کیسے وہ نوز پنچ، مخالف کی ناک پر مکا مار کے اسے فوراً گرانا
اور زیادہ سے زیادہ زمین میں دھنسا دینا چاہتا ہے۔
ہاں پھر اچانک ہی کچھ دیر بعد اپنے ہی ایسے فیصلوں پر افسوس بھی کرنے لگتا ہے۔
جیسا کہ ٹویٹر کی اتنی ورک فورس فائر کرنے کے بعد اس نے کہا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
اس کی برٹش ایکٹرس بیوی تالولا کہتی ہے کہ
ایلون آج بھی اپنے باپ کے سامنے کھڑا ہوا بچہ ہے۔
کیونکہ اکثر ایلون ایگزیکٹلی وہی الفاظ اور جملے دہراتا ہے
جو کبھی اس کا باپ اس کو کہا کرتا تھا۔
اس کو کہا کرتا تھا
بچپن میں ایلون مسک کی ماں، مائیا مسک انھیں اپنے ساتھ سنڈے سکول میں لے جاتی تھیں۔
یہ سکول ایک چرچ میں تھا
جہاں اس کی ماں ٹیچر تھی۔
لیکن یہاں بھی ایلون مسک، مس فٹ ثابت ہوا۔
کیونکہ جب اسے بائبل کی کہانیاں پڑھائی گئیں تو اس نے سوال اٹھانے شروع کر دئیے۔
جیسے کہ اولڈ ٹیسٹیمنٹ کی اس سٹوری پر وہ چونک اٹھا
کہ موسس نے چھڑی سے سمندر کو دو حصوں میں کاٹ دیا تھا۔
اس سے راستہ بن گیا تھا۔
اس کہانی پر ایلون نے پوچھا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
دس از امپاسیبل۔
پھر سکول میں جب اسے یہ معجزہ سنایا گیا کہ
جیسس کرائسٹ نے تھوڑے سے کھانے کو بہت زیادہ لوگوں میں تقیسم کر دیا تھا،
تو وہ پھر بول پڑا۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تھوڑی چیز کو زیادہ کر لیا جائے؟
اسی طرح اور بھی کئی باتوں پر بول اٹھتا تھا۔
گھر میں اس کا باپ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا کہ
بیٹا بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں،
انھیں چپ چاپ مان لینا چاہیے۔
لیکن ایلون کے لیے تو باپ کی باتیں بھی سمجھ سے بالا تر ہو چکی تھیں۔
سو وہ ان دونوں سے آگے نکل گیا اور ایگزیسٹینشل کرائسس کا شکار ہو گیا۔
اسے ہونے کا دکھ لگ گیا۔
وہ سوچنے لگا کہ ہم کیوں ہیں؟ یہ سب کیا ہے؟
میں کیوں ہوں؟ "یہ دنیا کیا دنیا ہے یہ چکر کیا ہے سارا؟"
اس سوال کے جواب کے لیے ایلون مسک نے ٹین ایج میں ہی فلاسفی کی مشکل کتابیں پڑھنے کی کوشش کی۔
کیونکہ جو سوال اس کے دماغ میں اٹھ رہے تھے
ان کا جواب اسے لائبریری میں موجود فلاسفی کی کتابوں ہی میں مل رہا تھا۔
لیکن ہوا یہ کہ ٹین ایج میں ان کتابوں نے اسے کلیرٹی دینے کے بجائے مزید کنفیوژ کر دیا۔
جس پر پھر وہ کہتا بھی رہا کہ ٹین ایج میں نٹشے وغیرہ کی کتابوں کو نہیں پڑھنا چاہیے،
مطلب یہ میچور ایج میں سمجھنے والی کتابیں ہیں، بچپن میں ہمارا تجربہ اتنا نہیں ہوتا
کہ ہم فلاسفی کے باتوں کو خود سے ریلیٹ کر سکیں۔
تو فلاسفی پڑھنا اس نے کچھ ہی دیر بعد چھوڑ دیا۔
لیکن کیوروسٹی تو تھی اس میں،
وہ کیسے سیٹی سفائی ہوتی؟ اپںے تجسس کی تسکین کیسے کرتا؟
اس کے تجسس کی تسکین ہوئی دوستو سائنس فکشن سے۔
حیرت کی بات ہے لیکن ایلون مسک کے ساتھ یہ ہوا۔
ایلون مسک کے ہاتھ گھر میں اور گھر کے باہر سکول لائبریری میں
اور ٹاؤن بک شاپس پر جتنا بھی سائنس فکشن ملا اس نے چاٹ ڈالا۔
ایلوں نے اُس سپر کمپیوٹر کی کہانی بھی پڑھی جو چاند پر ایک کالونی کو مینیج کرتا تھا، چلاتا تھا
اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ اس ہنس مکھ سپر کمپیوٹر نے
مون کالونی کو بچانے کے لیے اپنی جان دے ڈالی۔
اس کہانی سے اس نے سیکھا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو روکنا تو ناممکن ہے۔
یہ تو آ کر رہے گی۔
تو اس سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اسے ترقی دینی چاہیے
لیکن ایک ایسی سمت میں جو کہ انسان کا فائدہ کرے، اس کا نقصان نہ کرے۔
جیسا کہ ہنس مکھ سپر کمپیوٹر کی کہانی میں اس نے پڑھا تھا۔
اس کے بعد یہ کائنات کیا ہے؟ کیوں ہے؟
وہ خود کیا ہے؟
یہ سب کچھ آخر کیوں ہے؟
اس کا جواب اسے کسی حد تک ایک اور سائنس فکشن کہانی "دا ہِچ ہیکرز گائیڈ ٹو دا گلیکسی" سے ملا۔
یعنی اس کے ایگزیسٹینشل کرائسس کی سیٹی سفیکشن اس کہانی کے رزلٹ سے کسی حد تک ہو گئی۔
وہ ایسے کہ ہیچ ہیکرز گائیڈ میں ایک دو سروں والا، ٹو ہیڈڈ حکمران ایک گلیکسی کو ہیڈ کر رہا ہے۔
اس گلیسکی کے رہنے والے کائنات اور زندگی کے راز کا جواب تلاش کرنے میں مگن رہتے تھے۔
وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ وٹ از ایوری تھنگ؟
کائنات کا راز کیا ہے؟
اس کے لیے وہ ایک سپر کمپیوٹر بناتے ہیں جو ستر لاکھ سال کی پراسسنگ کے بعد
کائنات کے راز کا جواب دیتا ہے۔
اور جواب ہوتا ہے۔ فورٹی ٹو۔
اس عجیب و غریب جواب پر گلیکسی کے لوگ حیران اور ششدر ہیں کہ بھئی یہ کیا؟
اس ٹو ڈجٹ نمبر کا کیا مطلب؟
اس سے کائنات کی کون سی گتھی سلجھتی ہے؟
اس پر سپر کمپیوٹر جواب دیتا ہے کہ "جواب تو وہی ہے جو میں نے دے دیا۔
شاید تم لوگوں کو جواب کی سمجھ اس لیے نہیں آ رہی کہ تمہیں اصل سوال کا نہیں پتا۔
وہ سوال جو کائنات کا اصل سوال ہے اور اس کا جواب فورٹی ٹو ہے۔"
تم جاؤ اور اب اصل سوال تلاش کرو۔
ایلون مسک کہتے ہیں کہ اس کہانی نے میرے دماغ کی کھڑکی کھول دی۔
مجھے لگا کہ کائنات اور زندگی جس کے بارے میں میں جاننا چاہتا ہوں
ہو سکتا ہے کہ یہ سوال نہیں بلکہ جواب ہو۔
ہو سکتا ہے کہ جواب میرے سامنے ہے لیکن مجھے سوال کا نہیں پتا؟
کائنات کا ہونا کسی ایسے عظیم سوال کا جواب ہو سکتا ہے
جس تک انسان ابھی پہنچا ہی نہیں۔
انسانیت تو ہمیں انسان کے شعور کو کانشیئس کو اس جگہ تک لے جانا چاہیے
جہاں وہ ان سوالوں کو تلاش کر سکے جس کے جواب اس کے سامنے ہوں۔
جس وقت ٹین ایج ایلون مسک ان سوچ کے ان کرائسس سے گزر رہا تھا،
انھی دنوں دنیا میں پی سی، پرسنل کیمپوٹر کا انقلاب آ رہا تھا۔
اس نے میگزینز اور خبروں میں کیمپیوٹرز کے بارے میں جانا تھا، لیکن اسے ذاتی تجربہ بالکل نہیں تھا۔
گیارہ سال کی عمر میں اس نے پہلی بار جوہانسبرگ کے ایک سٹور میں کیپیوٹر دیکھا تھا۔
وہ کیمپوٹر لینا چاہتا تھا لیکن اس کا انجینئر باپ کیمپیوٹر کے خلاف تھا۔
وہ بچوں سے کہتا تھا کہ کیمپیوٹر تو گیمز کھیلنے اور وقت ضائع کرنے کی چیز ہے،
اس کا انجینرنگ سے کوئی لینا دینا نہیں۔
اب ایلون نے اس کا یہ حل نکالا کہ اپنے علاقے میں بہت سی پارٹ ٹائم اوڈ جابز کر کے
کچھ ماہ میں پیسے جمع کیے اور دو سو کچھ ڈالرز کا "وی آئی سی ٹونٹی" پہلا پی سی، کیمپیوٹر لے لیا۔
یہ ایک "کی بورڈ" کی طرح کی مشین تھی
جو گھر کے سٹینڈرڈ ٹیلی ویژن سے کنکٹ ہو کر چلتی تھی۔
اس میں گیمز سلاٹ بھی ہوتی تھی۔
کیسٹ کی طرح سے یہ کام کرتا تھا۔
اس میں گلیکسین اور الفا بلاسٹر کی گیمز تھیں جن میں زمین کو ایلینز کے حملے سے بچانا ہوتا تھا۔
اچھا اب ایلون نے کیمپیوٹر کے ساتھ آنے والی ایک کتاب جسے عام طور پر کوئی نہیں پڑھتا، اسے سارا پڑھ ڈالا۔
اس گائیڈ کتاب کو پڑھنا وہ کام تھا جو ایلون مسک کو وہاں لے گیا جہاں وہ آج ہے۔
یہ ایک مائیل سٹون ایونٹ تھا۔
یہ کتاب دراصل ابتدائی پروگرامنگ پر تھی،
جس میں بیسک لینگوئج کی ٹریننگ دی گئی تھی۔
بیسک دراصل "بگنرز آل پرپز سیمبالک انسٹرکشن کوڈ" کا مخفف تھا۔
بیسک لینگوئج سیکھنے والا کوئی بھی شخص کیمپیوٹر کی ابتدائی لیول کی گیم بنا سکتا تھا۔
یہ فری کورس ساٹھ گھنٹے کی ٹریننگ مانگتا تھا۔
ایلون نے کتاب سامنے رکھی
اور تین دن رات میں تیزی سے یہ ٹریننگ مکمل کر لی۔
ظاہر ہے اس کی ذہانت کا بھی اس میں دخل تھا کہ کئی ٹیسٹ جو ایک گھنٹہ مانگتے تھے
ممکن ہے کہ ایلون نے چند منٹ میں کر لیے ہوں۔
کیونکہ کورسز کا دورانیہ عموماً عمومی ذہانت کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے۔
تو خیر یہ کورس مکمل کرنے پر اس نے سی پلس پلس
اور ایک دوسرے پروگرام کی مدد سے دو تین وڈیو گیمز بھی بنائیں۔
جن میں سے ایک تو اسی آئیڈیا پر تھی جو وہ دیکھ اور کھیل رہا تھا یعنی ایلینز دنیا کو تباہ کرنے آ رہے ہیں اور اسے بچانا ہے۔
ایک ڈونکی کونگ تھی
اور باقی سپورٹس گیمز تھیں۔
ایک گیم اس نے ٹکنالوجی میگزین کے لیے بھی بنائی اور انھیں بیچ کر پانچ سو ڈالرز کمائے۔
ٹین ایج بوائے کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔
آج بھی یہ اچھی خاصی رقم سمجھی جاتی ہے۔
یہ گیمز بنانا اس کی کمپیوٹر اور پروگرامنگ سے دوستی کا آغاز تھا۔
اس کے بعد اس میدان میں اس کی ذہانت کے دروازے کھلتے چلے گئے۔
اسے سکول کی طرف سے جدید کیمپیوٹر آئی بی ایم ایکس ٹی ملا
جس پر اس نے مزید بہتر گیمز بنائیں۔
سولہ برس کی عمر تک اپنے سخت گیر والد کے ساتھ رہنے کے بعد اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
کیونکہ باپ کا نفسیاتی تشدد اس کی برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔
کئی بار ہنستے بولتے ایک دم سے ایلون کے والد چیخنے چنگھاڑنے لگتے
اور چھوٹی سی بات پر اسے سزا دیتے کہ ٹوتھ برش سے ٹوائلٹ صاف کرو۔ اسے کرنا پڑتا۔
پھر وہ اپنے انجینئر باپ کے غیر سائنسی آئیڈیاز سے بھی بہت تنگ تھا۔
مثلاً اس کا باپ چانس کا فارمولا بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایک ایسا میتھیمیٹیکل فارمولا جس سے کوئی بھی ایسی چیز پریڈکٹ کی جا سکے
جو عموماً بائی چانس ہوتی ہے۔
جیسے کہ لڈو میں ہر بار چھ لانے کا سائنٹیفک طریقہ،
ہر بار جوے میں اپنی مرضی کے نمبر پر سوئی رکنے کا طریقہ،
ٹاس کرنے پر ہر بار جیتنے کا طریقہ۔
ایرول مسک کہتے تھے کہ کوئی چیز بائی چانس نہیں ہوتی،
اس کے پیچھے فیبوناشی سیکیوئنس ہوتا ہے۔
یہ ایک مشکل سیکیوئس ہے اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔
یلون ان سے اتفاق نہیں کرتا تھا
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایلون مسک کو بھی ایسے تجربات کا حصہ بنایا کرتے تھے۔
جب ایلون جب اپنے باپ سے کہتا کہ ایسا کوئی فارمولا نہیں جو تمام چانس ایونٹس کو کنٹرول کر سکے۔
لیکن اس کا باپ بضد تھا کہ ایسا طریقہ ہے اور وہ اسے بنانے کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔
وہ ایک اوون میں بار بار ڈائل ڈال کر اس کی ریڈنگز لیتا،
انڈروئیر پہن کر کچن میں عجیب و غریب تجربات کرتا،
جوئے خانے میں ایلون کو لے جاتا
اور اس سے ریڈنگ نوٹ کرواتا بلکہ چیٹںگ بھی کرواتا۔
ایلون ایک بیڈ ٹیسٹ کے ساتھ یہ سب کر رہا تھا۔
اس پر ساتھیو آپ کو دلچسپ بات بتائیں کہ جب مصنف والٹر آئزکسن نے
ایلون کے والد سے یہی بات پوچھی کہ کیا آپ ایسا کرتے تھے؟
تو ایرول مسک نے کہا " ہاں تو اور کیا میں کرتا تھا۔
میں تو ایسے میکنزم کے بالکل پاس پہنچ گیا تھا۔
لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ دنیا میں لاتعداد دھندے اور کام صرف اس لیے چل رہے ہیں
کہ چانس اور رینڈمنس یعنی اتفاقات کو کیلکولیٹ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔
اس لیے بہت سے کام اسی وجہ سے چل رہے ہیں۔
اگر میں نے یہ طریقہ نکال لیا تو یہ سب کچھ بند ہو جائے گا۔
سو چلنے دو جیسا چلتا ہے۔"
مطلب فادر ایرول مسک کی ریلیٹی ہی اپنی تھی۔
ان کا بیٹا اس سب سے جان چھڑا کر امریکہ جانا چاہتا تھا۔
لیکن اس کا باپ کہتا تھا کہ امریکہ کوئی رہنے کی جگہ ہے،
وہاں تو پریزیڈنٹ کو خدائی درجہ حاصل ہے
اس پر تنقید کرنا تک جرم ہے۔
لیکن ایلون مسلسل اپنی ماں اور باپ سے ضد کرتا رہا
کہ انھیں ساؤتھ افریقہ چھوڑ کر امریکہ چلے جانا چاہیے۔
جب کوئی نہیں مانا تو اس نے خود سے اس بنیاد پر امریکی سٹیزنشپ حاصل کرنے کی کوشش کی
کہ اس کی ماں کا باپ، یعنی اس کے نانا امریکی شہر مینی سوٹا میں پیدا ہوئے تھے۔
لیکن اس کی یہ کوشش ناکام رہی کیونکہ اس کی ماں امریکہ نہیں بلکہ کینیڈا میں پیدا ہوئی تھی
اور اس نے کبھی امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔
مطلب ایلون مسک اپنی والدہ کی وجہ سے کینیڈا کی نیشنلٹی تو لے سکتا تھا،
مگر امریکہ کی نہیں۔
سو اس نے ایک الگ راستہ نکالا۔
ایلون نے امریکہ جانے کے لیے پہلے سٹیپ کے طور پر کینیڈا جانے کا فیصلہ کر لیا۔
اس نے اپنی عادت کے مطابق بغیر کوئی دیر لگائے سیدھا کینیڈین قونصلیٹ کا رخ کیا
اور پاسپورٹ کے لیے فارمز فل کرنا شروع کر دئیے۔
اس نے اپنے ہی نہیں بلکہ بھائی، بہن اور ماں کے لیے بھی فارمز فل کر دئیے۔
باپ کو جان بوجھ کر رہنے دیا۔
فارم فل کروا کے وہ گھر آ گیا۔
مئی نائنٹین ایٹی نائن میں کینیڈا سے اپرول آ گئی۔
جب اس کے باپ کو پتا چلا کہ یہ سب تو امریکہ جا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ دیکھ لینا
تم سب دوسرے مہینے روتے ہوئے واپس آؤ گے۔
تم سے کچھ نہیں ہونے والا۔"
ایلون ایسی ہی نیگٹیویٹی سے بچنے کے لیے تو جانا چاہتا تھا۔
اس نے دو ہفتے بعد کے سستے ائر ٹکٹس خریدے اور جون گیارہ کو کینیڈا میں لینڈ کر گیا۔
جاتے ہوئے اس کے باپ نے ایلون کو دوہزار ڈالرز ساتھ دئیے تھے۔
جب وہ کینیڈا میں اتر گیا تو اس کی اٹھارویں برتھ ڈے میں ابھی دو ہفتے باقی تھے۔
یعنی وہ ابھی اپنی لیگلی چائلڈ ایج میں تھا۔
ساتھیو دلچسپ بات یہ ہے کہ جب مصنف والٹر آئیزکسن نے ایلون کے والد سے پوچھا
کہ ایلون مسک ساؤتھ افریقہ سے کینیڈا یا امریکہ کیوں گیا تھا
تو انھوں نے بالکل ہی اور کہانی سنائی۔
وہ بولے کہ ایلون تو ہائی سکول کے دنوں میں بہت ڈپریس رہنے لگا تھا۔
ریپلک ڈے تھرٹی فسٹ مئی نائنٹین ایٹی نائن کو جب سب گھر والے پریڈ دیکھنے کے لیے جا رہے تھے
تو ایلون بستر سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تھا۔
میں نے اس کی مایوسی اور ڈپریشن دیکھتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہیں امریکہ بجھوا دوں؟
تو ایلون نے کہا ہاں بجھوا دیں۔
پھر میں نے اسے گائیڈ کیا کہ کل تم امریکن کلچر اتاشی سے ملو،
وہ میرا دوست ہے وہ تمہارے جانے کا انتظام کرے گا۔
یہ والد ایرول مسک نے کہا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں پھر ایرول مسک ایک ایسی بات کہہ رہے تھے
جس کی حقیقت انھوں نے خود ہی کرئیٹ کی تھی۔
وہ اس نفسیات کا شکار تھے جس میں انسان ہر واقعے کا مرکزی کردار خود بننا چاہتا ہے۔
ہر کہانی کا ہیرو وہ خود ہوتا ہے
اور یہ کہانی اس نے خود اصلی واقعات کے گرد اپنے مرضی کی ڈیٹیلز کے ساتھ، اپنے تخیل سے بنی ہوتی ہے۔
ان کی کہانی اس لیے غلط تھی کہ جو تاریخ ایلون مسک کے والد بتا رہے تھے
یعنی ریپبلک ڈے پر ایلون مسک بستر سے نہیں ںکل رہا تھا
اس تاریخ تک تو مسک اپنے بہن بھائی اور ماں کے لیے کینیڈین ویزہ حاصل کر کے ٹکٹس بھی خرید چکا تھا۔
جس نے اس شخص کی پرسنلٹی کی بنیاد رکھی
جس نے پھر کئی ملٹی بلین ڈالرز کی کمپنیز کھڑی کیں۔
وہ کہتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا ہے
کہ وہ انسانی شعور، ہیومن کونشئیس کو بچانا چاہتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ انسان کئی جزیروں اور ملکوں کے رہائشی ہونے سے آگے نکلے
اور اب وہ گلیسیز پر دوسرے سیاروں پر گھر بنائے۔
اس نے سائنس فکشن کو اصلی روپ دینے کے لیے
مارس پر کالونی بنانے کا پلان دے رکھا ہے۔
اسی کے لیے اس نے سپیس ایکس کمپنی کھڑی کی ہے
جو اب ایک سٹارشپ بنانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
جس کا کام یہ ہو گا کہ وہ انسانوں کو چاند اور مارس مریخ پر لے جائے اور واپس بھی لا سکے۔
مریخ پر جانے کے ون وے ٹرپ کے لیے وہ خود بھی تیار ہے۔
پھر وہ دنیا کے سب سے بڑے نیوز فورم ٹویٹر کو بھی اب اون کرتا ہے۔
0 Comments
Thank you for all friends